Monday, June 18, 2012
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
https://farm1.staticflickr.com/100/283413159_1690f95fa7.jpg
’’بیشک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے آپ میں خود تبدیلی پیدا کر ڈالیں،اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ(اس کی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے) عذاب کاارادہ فرما لیتا ہے تو اسےکوئی ٹال نہیں سکتا،اور نہ ہی ان کے لئے اللہ کے مقابلہ میں کوئی مددگار ہوتا ہے۔‘‘
(الرعد13 :11)
رسول اللہﷺنے فرمایا :
’’مجھ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جس امت میں کسی نبی کو مبعوث فرمایا توا س کی امت میں اس کے حواری اور اصحاب ہوتے تھے ۔وہ اپنے نبی کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھتے تھے اور نبی علیہ السلام کا جوبھی حکم ہوتا تھا اس کی پیروی کرتے تھے۔پھر ان کے بعد ان کے ایسے جانشین (وارثین)آتےتھےجو نالائق اور ناخلف ہوتے تھے۔’’یقولون مالا یفعلون ‘‘وہ کہتے وہ تھے جو کرتے نہیں اور ’’یفعلون مالا یؤمرون‘‘ کرتے وہ تھے جس کا ان کوحکم نہیں تھا۔تو جو کوئی ان سے جہاد کرے گا ہاتھ سے پس وہ مومن ہے،اور جو کوئی ان سے جہاد کرے گا اپنی زبان سے پس وہ مومن ہے،اور جو ان سے جہاد کرے گا اپنے دل سے پس وہ مومن ہے اور( جوکوئی یہ بھی نہ کرے تو وہ جان لے کہ) اس کے بعد تو ایما ن رائی کے دانے کے برابربھی نہیں ہے‘‘۔
صحیح مسلم،ج:1،ص:168،رقم:71.
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے دلوں کوہرقسم کے تعصب اورشخصیات،میڈیا وتنظیموں کی من مانی سے پاک کرکے اپنے آپ کوحق کے حوالے کردیں۔پھر ہمیں حق کی پہچان ہوجائے گی اورہمیں بآسانی پتہ چل جائے گا کہ کون اہل حق ہے اور کون حق کے نام پرذاتی مفادات کوحاصل کرنے اورلوگوں کوگمراہ کرکے اہل باطل کی مددکرنے میں لگا ہواہے۔اسی طرح ہمارے اوپر یہ بھی واجب ہے کہ جب ہم حق کو پہچاننے لگ جائیں گے تواس کی کسوٹی ومعیارپراورترازومیں لوگوں اور تنظیموں کوپرکھے گے توجن کے بارے ہمیں پتہ چلتا جائے گا کہ یہ اہل حق میں سے ہیں توپھرہم پر ان کا ساتھ دینااور ان کی مددونصرت کرناواجب ہیں۔اور جن کے بارے میں یہ حقیقیت عیاں ہوجائے کہ وہ اہل باطل میں سے ہیں توہم پر لازم ہیں کہ ہم ایسی شخصیات اورتنظیموں کابائیکاٹ کریں اوراگرہم ان پر حجت کا اتمام کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں توہمیں انہیں احسن طریقے سے دعوت دینی چاہئے۔
(صلاح الدین غزنوی)
بہت ہی عمدہ۔۔۔۔۔ جزاک اللہ!
ReplyDeleteماشا اللہ اچھی لے آوٹنگ ہے
ReplyDelete