Wednesday, June 27, 2012
قرآن مجید میں آگ کاذکر
قرآن مجید میں آگ کاذکر
از۔شیخ خالد الحسینان
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ أياماً مَّعدوداتٍ
) ٢:١٨٣(
ترجمہ: ائے ایمان والوں تم پر وزے فرض کردئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم تقوی اختیا ر کرو یہ چند ایام ہیں
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمدالله رب العالمین حمدا کثیرا طیبا مبارکا فيه ، واشهد ان لااله الا الله وحدہ لا شریک له واشهد ان محمدا عبدہ ورسوله اما بعد !
عزیزان گرامی ! اس نشست میں ہم ان شاءاللہ جس موضوع پر گفتگو کریں گے وہ ہے قرآن مجید میں )آگ کا ذکر(
اگر ہم اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں غور وفکر کریں تو ہم دیکھیں گے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہنم کی آگ کے ذکر سے کھبی غافل نہیں ہوئے۔
آپ تصور کریں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح سے شام تک جہنم کی آگ سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔
مثلا : جہنم کی آگ سے پناہ ہمیں صبح وشام کے اذکار میں ملتی ہے معروف دعا ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائی :
أصبحنا وأصبح الملك لله والحمدلله ولا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم إني أسألك خير ما في هذا اليوم وخير ما بعده، رب أعوذ بك من شر ما في هذا اليوم وشر ما بعده، رب أعوذ بك من الكسل وسوء الكبر، رب أعوذ بك من عذاب في النار وعذاب في القبر
ترجمہ: ہم نےصبح کی جبکہ بادشاہت ا للہ کے ہی کے لئے ہے اور تمام تعریفات اللہ کےلئے ہیں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اس کےلئے ملک اور اسی کے لئے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے یا اللہ میں اس دن میں اور اس کے بعد جوخیر ہے اس کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ائے میرے رب اس دن میں اور اسکے بعدجو شرہے اس سے تیری پناہ مانگتاہوں ائے میرے رب میں تجھ سے سستی اور تکبر کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں ائے میرے رب میں آگ کے عذاب اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
آپ غور کریں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر دن اور ہر صبح وشام جہنم کی آگ سے اللہ جل جلالہ کی پناہ مانگتےتھے
اسی طرح تشہد کے بعد اور سلام سےقبل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہنم کی آگ سے اللہ کی پناہ مانگتےتھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں تشہد کے بعد یہ دعا پڑھنا سکھائی :
اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر وعذاب النار، ومن فتنة المحيا والممات، ومن فتنة المسيح الدجال
ترجمہ: ائے اللہ میں عذاب قبر سے، جہنم کی آگ سے، زندگی وموت کے فتنے سے اور دجال کے فتنے سے تیری پناہ چاہتاہوں۔
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگ کے ذکر سے کھبی غافل نہیں ہوتے حتی کہ سونے سے پہلے بھی آپ جہنم کی آگ کو یاد رکھتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے کاارادہ کرتے تو اپنی دائیں ہتھیلی اپنے دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور پھر یہ دعا ایک بار یا تین بار دہراتے:
رب قني عذابك يوم تبعث عبادك
ترجمہ: ائے میرے رب مجھے اپنے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو دوبارہ زندہ کرےگا۔
بلکہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بقول انس بن مالک رضی اللہ عنہ اکثر و بیشتر دعا یہ ہوتی:
ربّنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار
ترجمہ: ائے ہمارے رب ہمیں دنیا وآخرت کی بھلائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں انکی سوچ اور انکے دل میں جہنم کی آگ کا ذکر کثرت سے ملتاہے اور وہ آگ کے ذکر کو کھبی نہیں بھولتے اسی طرح ہر مسلمان کو ہمیشہ جہنم کی آگ کو یاد رکھنا چاہییے اور وقفہ وقفہ سے جہنم کی آگ سے متعلق تقریر سنتارہے یا کوئی کتاب جس میں جہنم کی آگ کا ذکرہو پڑھتا رہے تاکہ اس کے دل میں اللہ سبحانہ تعالی کاخوف بڑھ جائے اور وہ دنیا کی شہوتوں ، لذتوں اور گناہوں میں مبتلا نہ ہوجائے اور آخرت کے ذکر کو بالکل فراموش نہ کردے ۔
میں اس نشست میں چند آیا ت پر روشنی ڈالوں گا جن میں جہنم کی آگ کا ذکر یا پھر جہنمیوں کےحالات کا تذکرہ ہو۔ہم صرف آیات کے ذکرپر ہی اکتفاء کریں گے ۔
مثلا ہمارے رب کا فرمان ہےکہ:
هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارٍ
ترجمہ: یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کےمعاملے میں جھگڑا کیا چنانچہ جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے آگ کا لباس کاٹا جائے گا ۔یعنی ان کے لئے آگ کا لباس الگ کیا جائے گا
اتنا ہی نہیں ہم آیت مکمل کرتےہیں:
يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُؤُوسِهِمُ الْحَمِيمُ
ترجمہ: انکے سروں پر کھولتاہوا پانی ڈالا جائے گا۔اللہ کی پناہ!
ان کےیعنی جہنمیوں کے سروں پرحمیم )کھولتا ہو پانی( انڈھیلا جا ئے گا۔)حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جو گرمی کی شدت سے جوش مار رہاہو( میں آپ کو ایک مثال دیتاہوں اگر ایک شخص پانی گرنے کی جگہ پر بیٹھ جائے اور یہ پانی کھولتا ہو ا بھی نہ ہو بلکہ ایک گھنٹے تک نیم گرم کیا گیاہو ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ایک دن یا ایک ہفتہ بلکہ صرف ایک گھنٹہ۔۔ ہر منٹ میں صرف ایک قطرہ پانی ٹپکتا رہے ۔۔۔۔یہ پانی عذاب نہیں مگر نفسیاتی عذاب ہے و ہ درد اور تھکاوٹ محسوس کریگا اگر چہ ایک منٹ میں صرف ایک قطرہ یا پانچ منٹ میں ایک قطرہ ہی ٹپکے۔۔۔صرف ایک گھنٹے کے لئے۔۔۔۔ ذرا سو چیں اس شخص پر کیا گزرے گی؟ وہ نفسیاتی طور پر عذاب میں مبتلا ہوجائے گا۔۔۔پھر کیسے جہنم کا عذاب سہہ سکتا ہے۔۔!
ہم آیت مکمل کرتے ہیں:
يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُؤُوسِهِمُ الْحَمِيمُ (19) يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ وَلَهُم مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍ
ترجمہ: ان کے سروں پر کھولتا ہو پانی ڈالا جائے گا جس سے انکی کھالیں ہی نہیں پیٹ کے اندر کےحصے بھی گل جائیں گےاور ان کی خبر لینے کے لئے لوہے کے گرز ہوں گے(المقامع:گرز)
آپ تصور کیجیئے کہ ان کے لئے لوہےکہ گرز ہیں۔
كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا
ترجمہ: جب کبھی وہ گھبراکر جہنم سے نکلنے کی کوشش کریں گے پھر اسی میں دھکیل دیئے جائیں گے
اسکے سر پر ہتھوڑے سے مار ا جائے گا ۔اللہ تعالی ہمیں عافیت وسلامتی دے
سورہ محمد میں ارشاد باری تعالی ہے:
وَسُقُوا مَاءً حميمًا فَقَطَّعَ أمْعَاءَهُمْ
ترجمہ: اور انہیں پانی پلایا جائے گا جو انکی آنتیں تک کاٹ دے گا۔
یعنی صرف کھولتا ہوا پانی صرف اسکے سر پرہی نہیں ڈالا جائے گا بلکہ وہ کھولتا ہوا پانی پئیے گا بھی میں آپ کو مثال کےذریعے سمجھاتاہوں تاکہ آپکے سامنے وہ منظر پیش کرسکوں جو تقریبا ویسا ہی ہے لیکن یہ جہنم کی آگ کے برابر نہیں کیوں کہ جہنم کی آگ دنیا کی آگ کی بنسبت 70 گنا زیادہ تیز ہے۔
غورکریں اگر آپ سے ابھی کوئی کہے کہ آپ چائے کا کپ جلدی سے پی لیں تو آپکے ساتھ کیا ہوگا؟ آپکی آنتیں کٹ جائیں گی تو پھر ذرا جہنم کی آگ کا تصور کریں۔۔! اس آیت کی وعید پر ذرا غور کریں اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو کچھ میں جانتاہوں اگر وہ تم جان لو تو تم کم ہنسو اورکثرت سے روؤ مگر مصیبت یہ ہے کہ ہم وہ جانتے ہی نہیں جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے
اسی طرح اللہ سبحانہ تعالی ان لوگوں کے متعلق فرماتا ہے:
مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ
آپ ذرا تصور کیجیئے کہ: جہنمیوں کا بچھونا آگ کا ہوگا
وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ اور انکا اوڑھنا جہنم کا ہوگا ۔یعنی اوڑنا بھی آگ کا ،یعنی انکا لباس اور بستر بھی آگ کا ہو یعنی انکا لباس ،بستر سب آگ کا اور ان کے لئے لوہے کی گرز ہوں گی۔
عزیزان گرامی دوسرے مقام پر اللہ سبحانہ تعالی فرماتاہے کہ جہنمی کیسے ہونگے )اللہ کی پناہ( جہنمیوں کی سب سے بڑی تمنا اس دن موت ہوگی جس طرح آج کفار کی سب سے بڑی خواہش زندگی ہے
وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَى عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا
ترجمہ: جن لوگوں نے کفر کیا ان کےلئے جہنم کی آگ ہے ان کا قصہ تمام نہیں کیا جائے گا کہ وہ مرجائیں اور ان سےاسکا عذاب کم بھی نہیں کیا جائے گا۔
یعنی نہ تو مرے گا اور نہ ہی اس کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔
ذرا غور کیجیئے کہ انسان اپنی ٹیکنولوجی کے ذریعے دوسرے انسانوں کوجتنا چاہے عذاب دے وہ کتنا عذاب دے سکتاہے مہینے ،دو مہینے اسکے بعد آپ مرجائیں گے اور مصیبت ختم مگر جہنم کی آگ کی کو ئی انتہا ہی نہیں تصو ر کیجیئے کہ انسان مدتوں عذاب میں مبتلا رہے گا وہاں ذرا بھی آرام نہیں پائے گا نہ ظہر کے وقت نہ ہی جمعرات اور جمعہ کے دن۔
تصور کیجئے کہ انسان وہاں دن کے چوبیس گھنٹوںمیں سے ہر لمحہ اور ہر پل جہنم کی آگ میں مبتلا رہے گا آج کسی کے سر میں ایک دن بھی درد ہوجائے تو وہ زندگی اور دنیا کو ناپسند کرنے لگتا ہے ۔
کیسے انسان مدتوں عذاب سہہ سکے گا وہ عذاب جس کی کوئی انتہا نہیں کفار ومشرکین کے لئے تو عذاب کی کوئی انتہا نہیں البتہ مومنوں کو ان کے گناہوں کے مثل عذاب دیا جائے گا
لَا يُقْضَى عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا
ترجمہ: انکا قصہ تمام نہیں کیا جائے گا کہ مرجائیں اور نہ ان کےلئے جہنم کے عذاب میں کوئی کمی کی جائے گی
غور کیجئے کہ آنے والا سال ،اسکے بعد والا سال، دس سال حتی کہ سو سا ل یہ تو بذات خو د ایک عذاب ہے ، جہنم کے عذاب میں ذرا برابر بھی تبدیلی نہیں ہوگی۔اللہ تعالی ہمیں محفوظ فرمائے
عزیزان گرامی اسی لئے ہمیشہ جہنم کی آگ کو یاد رکھیں اور اللہ جل جلالہ سے ہمیشہ جہنم کی آگ سے پناہ مانگیں اسی لئے اللہ سبحانہ تعالی دوسرے مقام پر فرماتاہے:
وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ إِنّكُمْ مّاكِثُونَ
ترجمہ : وہ پکاریں گے ائے مالک )داروغہ جہنم کا نام (تیرا رب ہمارا کام تمام ہی کردے تو اچھا ہے وہ جواب دے گا تم یونہی پڑے رہو گے۔
انکی چاہت ہوگی کے وہ اس زندگی سے چھٹکارا پالیں مگر جواب دیا جائے گا
قَدْ جِئْنَاكُم بِالْحَقّ وَلَـَكِنّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقّ كَارِهُونَ
ترجمہ : ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے مگرتم میں سے اکثر کو حق ناگوار تھا۔ہمیں چھوڑ دو ہم مر جائیں، چھوڑ دو تھوڑا آرام کرلیں ہم عذاب سے تھکنے لگے ہیں
وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ
ترجمہ: وہ پکاریں گے ائے مالک تیرا رب ہمارا کام تمام ہی کردے تو اچھا ہے۔
عزیزان گرامی میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں
تصور کریں کہ آپ کے پاس کوئی شخص سوئی لے کر آئے صرف ایک سوئی اور کچھ نہیں پھر وہ آپ کے جسم،آپکی آنکھ یا پھر آپکے جسم کے حساس حصوں پر سوئی چبھونا شروع کردے آپ کیسا محسوس کریں گے؟
اگر آپ سے کہاجائے کہ ایک انگارہ اپنے ہاتھ میں لیں
عزیزان گرامی غور وفکر کیجئے کہ جہنم کی آگ کی کیا مثال ) فيوْمَئِذٍ( اس دن جیسا کہ اللہ سبحانہ تعالی فرماتا ہے:
لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ
ترجمہ : کوئی شخص بھی اللہ سبحانہ تعالی کے مثل عذاب نہیں دے سکتا
اور بیشتر ایسی آیات ہیں جن میں اللہ سبحانہ تعالی نے جہنم کے عذاب اور جہنمیوں کے احوال کا ذکر کیا ہے ایک مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان آیات پر غور وفکر کرے کم از کم ہر مہینے میں جہنم کی آگ کا ذکر ضرور پڑھے اور ہر مہینے ایک نہ ایک کیسٹ C.D ضرور سنے جس میں جہنم کی آگ کا ذکر ہو یہاں تک کہ اسکا نفس خوف محسوس کرنے اور کانپنے لگے اور انسان گناہوں میں مبتلا ہونے یا واجبات کو چھوڑنے سے ڈرجائے۔
اللہ رب کریم عرش عظیم سے دعا ہے کہ وہ مجھے اور آپ کو جہنم کی آگ سے بچائے ۔آمین
أقول قولي هذا وأستغفر الله لي ولكم
Monday, June 25, 2012
انصارانِ طاغوت اقسام واحکام
ایمان کے وہ مسائل جن کا تعلق طاغوت سے ہے دین کے اہم ترین مسائل ہیں کیونکہ وہی ایمان اور کفر میں امتیاز کرتے ہیں ۔اللہ پر ایمان رکھنے والا ہر مومن طاغوت کا انکار کرنے والا ہوتا ہے اور طاغوت پر ایمان لانے والا ہر کافر اللہ کا انکار کرنے والاہوتا ہے اور کسی بھی مسلمان موحد کا ایمان اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ طاغوت کا انکار نہ کردے ۔گویا توحید خالص کی بنیادی شرط طاغوت کے ساتھ کفر کرنا اور اس کا انکار کرناہے۔
انصارانِ طاغوت اقسام واحکام
نثراللؤلؤ والیاقوت لبیان حکم الشرع فی اعوان وانصار الطاغوت
نثراللؤلؤ والیاقوت لبیان حکم الشرع فی اعوان وانصار الطاغوت
بقلم : عبدالرحمٰن بن عبدالحمید الامین حفظہ اﷲ
مترجم:ابوعلی السلفی المہاجر حفظہ اللہ(الکراتشی)
مترجم:ابوعلی السلفی المہاجر حفظہ اللہ(الکراتشی)
Friday, June 22, 2012
خلافت و سیاست کا شرعی مفہوم
خلافت و سیاست کا شرعی مفہوم
رسول اللہﷺکی نظر میں خلیفہ کون؟
خلافت و سیاست کا شرعی مفہوم یا باالفاظ دیگرامام عادل اور خلیفہ سے کیا مراد ہے،اس کی وضاحت شرعی طور پر یہ ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
’’جو شخص امر بالمعروف اور نہی عن المنک کرتاہے وہ (ہی )زمین میں اللہ کا ،اس کے رسول کا اور اس کی کتاب کا خلیفہ ہے‘‘۔
کیا ایسا شخص جو کہ نیکی کا حکم دینے کے بجائے اس کے راستے مسدود کررہاہو اور برائی سے روکنے کے بجائے اس کا نفاذ بزور طاقت کررہا ہوتو کیا اس کے باوجود وہ واجب الاطاعت رہے گا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺاور اس کی کتاب کا خلیفہ قرار پائے گا؟
صحابہ کرامکی نظر میں خلیفہ کو ن ؟
حضرت علیفرماتے ہیں :
’’قال علی الامام انما جعل لیقیم الناس الصلوة ویاخذ صدقاتھم ویقیم حدودھم یمضی احکامھم ویجاھد عدوھم وھذہ کلھا عقودولایخاطب بھا من لم یبلغ او من لا یعقل‘‘[2]
’’حضرت علی فرماتے ہیں کہ امام (خلیفہ )اس لیے بنایا جاتا ہے تاکہ نظام صلوۃ کو قائم کرے ،صدقات وصول کرے ،حدود (اللہ)قائم کرے ،احکام (شریعہ)کا نفاذ کرے اور دشمنوں سے جہا د کرے۔یہ تمام امور عقود (معاملات )ہیں اور ان کا مخاطب نابالغ اور غیر عاقل نہیں ہے‘‘۔
حضرت عمرسے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت طلحہ ،حضرت زبیر،حضرت کعب اور حضرت سلمانسے سوال کیا کہ خلیفہ اور بادشاہ میں کیا فرق ہے ؟حضرت طلحہ و زبیر نے فرمایا ہم نہیں جانتے،پھر حضرت سلمان نے فرمایا:
’’خلیفہ وہ ہے جو رعیت میں عدل کرے اور ان کے درمیان مال برابر کی تقسیم کرے اور لوگوں پر ایسی شفقت کرے جیسی کوئی اپنے گھر والوں پر کرتا ہے اور اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرے‘‘۔[3]
جو حکمران نظام صلواۃ کے قائم کرنے کے بجائے اس کو ڈھادے ،صدقات کے بجائے ٹیکس وصول کرنے پر مصر رہے،حدود اللہ کوقائم کرنے کے بجائے ان کے قیام کے لئے آواز اٹھانے والوپر آتش و آہن کی برسات کردے ،احکام شرعیہ کے نفاذ کے بجائے بزور شمشیر کفریہ قوانین کا اجراء کرے ،دین کے دشمنوں سے لڑنے کے بجائے ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف صف آراء ہوجائے تو کیااس کے باوجود اس کی ولایت کو ’’تسلیم ‘‘کیا جاتا رہے گا………؟ ؟
خلیفہ فقہاء کی نظر میں:
علامہ آلوسی سورۃ البقرۃ کی آیت ﴿اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الاَرْضِ خَلِیْفَةً﴾’’ضرور میں بناؤں گا زمین میں ایک نائب‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
’’ومعنی کونہ (خلیفة )انہ خلیفہ اﷲ تعالیٰ فی ارضہ وکذا کل نبی استخلفھم فی عمارة الارض وسیاسة الناس وتکمیل نفوسھم وتنفیذ امرہ فیھم لالحاجة بہ تعالیٰ ‘‘[4]
’’خلیفہ کے معنی یہ ہے کہ وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کاخلیفہ و نائب ہوتا ہے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو زمین کی آبادی ، انسانوں کی سیاست (نظم و نسق)کرنے ، ان کے نفوس کی تکمیل کرنے اور ان کے اندر اللہ کے حکم کو نافذ کرنے کے لئے اپنا نائب بنایا ہے ،نہ کہ اللہ تعالیٰ اس کا محتاج ہے‘‘۔
امام بغویاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
’’صحیح قول یہ ہے کہ آدم (انسان)اللہ کا خلیفہ ہے زمین میں اس کے احکام قائم کرنے اور اس کے فیصلوں کو نافذ کرنے کے لئے‘‘۔
امام الحرمین خلیفہ کے فرائض بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’کلی بات یہ ہے کہ غرض طوعاً وکرھاً قواعد اسلام کی بقاء ہے اور مقصد دین کا قیام ہے‘‘۔
جس امارت کا مقصد دین اللہ کے قیام کے بجائے اپنے یا اغیار کے وضع کردہ قوانین کا اجراء ہوجائے تو کیاپھربھی اس کے جاری کردہ احکاما ت کو ’’نافذالعمل‘‘ہی قرار دیا جاتا رہے گا………؟؟
خلافت دراصل رسول اللہﷺکی نیابت اور جانشینی کا نام ہے:
امام الماوردی فرماتے ہیں :
’’امامت(یاخلافت)دین کی حفاظت کرنے اور اس کے ذریعے دنیاوی امور کی تدبیر اور نظم و نسق کرنے میں نبوت کی نیابت ہے‘‘۔
علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں:
’’درحقیقت خلافت دین کی حفاظت کرنے اور اس کے ذریعے دنیوی امور کی تدبیر اور نظم و نسق کرنے میں صاحب شریعت(رسول اللہ ﷺ)کی نیابت اور جانشینی کا نام ہے‘‘۔
امام ابن حزمفرماتے ہیں :
’’ان الامة واجب علیھا الانقیاد لامام عادل یقیم فیھم احکام اللہ ویسوسھم باحکام الشریعة التی اتیٰ بھا رسول اللّٰہ‘‘۔[9]
’’یعنی امت پر عادل خلیفہ کی فرمانبرداری لازم ہے جو ان میں احکام الٰہی کو قائم کرتاہے اور احکام شریعت جو رسول اللہ لائے ہیں ،ان کے نفاذ کا انتظام کرتاہے‘‘۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں:
’’الخلافة ھی الریاسة العامة فی التصدی لاقامة الدین باحیاء العلوم الدینیة واقامةارکان الاسلام والقیام بالجھاد وما یتعلق بہ من ترتیب الحیوش والفرض للمقاتلہ واعطاھم من الفیٔ والقیام بالقضاء واقامة الحدود ورفع المظالم والامر بالمعروف والنھی عن المنکر نیابة عن النبی ﷺ‘‘۔ [10]
’’خلافت عامہ وہ ریاست عامہ ہے جو رسول اللہ ﷺکی نیابت و جانشینی کرتے ہوئے عملاً اقامت دین کے لئے حاصل ہوئی ہو یعنی علوم دینیہ کا احیاء، ارکان اسلام کی اقامت ،جہاد اور متعلقات جہاد کا قیام جیسے افواج کی ترتیب، مجاہدین کے وظائف دینا،مال غنیمت کی تقسیم ،نظام عدالت کاقیام، حدود(شریعہ)کا اجراء، مظالم کو دور کرنا اور امر بالمعروف ونہی عن المنکرکرنا شامل ہیں‘‘۔
فقہاء کرام کے ان اقوال کی روشنی میں کیا اسلام اس بات کی اجازت دے سکتا ہے کہ نیابت رسول ﷺاور آپ ﷺکی جانشینی ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں رہے جوکہ ظلم و فسق کی حدوں توڑتے ہوئے کئی کئی دروازوں سے کفر و ارتداد میں داخل ہورہا ہولیکن پھر بھی اس کی نیابت اور جانشینی کو’’ تسلیم‘‘ کرنے اور ا س کے احکامات ’’نافذالعمل‘‘قرار دینے کے درس دیئے جاتے رہیں گے………؟؟
زمین کی خوشحالی خلافت سے وابستہ ہے:
جب حکومت اس شرعی معنی و مفہوم کے ساتھ قائم ہوتووہ’’خلافت‘‘کہلاتی ہے اور حاکم ان اوصاف حمیدہ کے ساتھ حکومت کررہا ہوں تووہ خلیفہ اور امام عادل قرار پاتا ہے اور ایسے وقت کے بارے میں رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا:
((وعن ابن عباس رضی اﷲ عنھما قال قال رسول اللّٰہﷺیوم من امام عادل افضل من عبادة ستین سنة وحد یقام فی الارض بحقہ ازکی فیھا من مطر اربعین عاما))[11]
’’حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:امام عادل کا ایک دن افضل ہے ستر سال کی عبادت سے اور زمین پر ایک حد کا قیام چالیس سالوں کی بارش سے زیادہ خوشحالی کا باعث ہے‘‘۔
آج جبکہ امام عادل کے بجائے آئمۃ الکفر کا تسلط ہے اور زمین پر اللہ کی حدود کے بجائے غیرا للہ کے قوانین جاری و ساری ہیں جو کہ زمین پرفتنہ و فساد،قتل و غارت اور تباہی و بربادی کا موجب ہیں، اس کے باوجود ہم ان قوانین کو ’’تسلیم ‘‘کئے رہیں گے………؟؟
خلیفہ کے بغیر موت جاہلیت کی موت ہے:
رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:
’’جو شخص اس حال میں مر ا کہ اس کی گردن میں (کسی خلیفہ کی )بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا‘‘۔
’’جو شخص اس حال میں مرا کہ اس پر اس پر کوئی امام (خلیفہ )نہیں تو وہ جاہلیت کی موت مرا‘‘۔
ان احادیث مبارکہ سے یہ بات کلیۃ واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺنے خلیفہ کی بیعت کو فرض قرار دے دیا ہے اور خلیفہ کی بیعت اس کے تقرر کے بغیر نہیں ہوسکتی لہٰذا خلیفہ کا تقررمسلمانوں پر فرض ہے۔چناچہ امام نوویاس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
’’یعنی وہ کفار کی موت کی صفت پر مرا۔اس حیثیت سے کہ وہ بغیر کسی امام کے ہیں اور ان کا کوئی امام نہیں‘‘۔
ان احادیث مبارکہ کی روشنی یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنے پڑتی ہے کہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت چاہے وہ اپنی ذات میں کتنی ہی نیک اور صالح کیوں نہ ہو ،اجتماعی لحاظ سے کم از کم جاہلیت کی صفت پر اس دنیا سے رخصت ہورہی ہے تو کیا پھر بھی ہم ’’مجبوری ‘‘کا بہانہ بنا کر ان حالات میں سر’’تسلیم‘‘خم کئے جاہلیت کی موت مرتے رہیں گے………؟؟
سفر بغیر امیر کے جائز نہیں:
رسول اللہﷺنے حالت سفر میں بھی جبکہ تعداد کتنی قلیل ہی کیوں نہ ہو،امیر کے تقرر کو لازمی قرار دیا ہے:
’’جب تین آدمی سفر کے لئے نکلیں تو انہیں چاہیے کہ اپنے میں سے ایک کو امیر بنالیں‘‘۔
’’نہیں ہے حلال تین آدمیوں کے لئے جو کسی خطۂ زمین میں (سفرمیں)ہوں مگر یہ کہ وہ اپنے اوپر ایک امیر مقرر کرلیں‘‘۔
لہٰذا مسلمانوں کے لئے ایک امیر کا تقرر بطریق اولیٰ فرض قرار پایا۔امام ابن تیمیہ مندرجہ بالا احادیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:
’’فقد اوجب صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ وعلی آلہ تأمر الواحد فی الاجتماع القلیل العارض فی السفرمنبھاًبذلک علیٰ سائر انواع الاجتماع……………فاذا وجب فی اقل الجماعات واقصر الاجتماعات ان یولی احدھم کان ھذا تنبیھاًعلی وجوب ذالک فیما ھواکثر من ذلک‘‘۔[17]
’’رسول اللہ ﷺنے قلیل اجتماعیت جو سفر میں پیش آجائے،اس میں امیر بنانے کو واجب قرار دیتے ہوئے اجتماعیت کی تمام اقسام پر تنبیہ فرمائی ہے۔جب چھوٹی سی جماعت اور انتہائی کم اجتماع میں کسی ایک کو امیر بنانا واجب ہے تو یہ اس سے بڑی اجتماعیت میں ،اس کے وجوب پر تنبیہ ہے ‘‘۔
غور کرنے کا مقام ہے کہ جب تین آدمیوں کے سفر میں نکلنے کی صورت میں امیر مقرر کئے بغیر نکلنا حلال اور جائز نہیں تو پوری امت کے اجتماعی معاملات کو سنبھالنے کے لئے ایک امیر(خلیفہ)کا نہ ہونا با امر ’’مجبوری‘‘ کب تک قبول کیا جاتا رہے گا………؟؟
واجب کا مقدمہ بھی واجب ہوتاہے:
علماء اصولیین کے ہاں شرعی قاعدہ کلیہ ہے جس کو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ان الفاظ میں نقل کیا کہ:
’’واجب کا مقدمہ بھی واجب ہوتا ہے‘‘۔
اور جس کو امام ابن تیمیہ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا:
کیونکہ اصول یہ ہے کہ(مَالَا یَتِمُّ الْوَاجَبُ اِلَّا بِہٖ فَھُوَ وَاجِبْ)’’جس معاون چیز کے ساتھ کسی واجب کی ادائیگی ہوتی ہے وہ کام بھی واجب ہے‘‘۔[19]
چنانچہ علامہ تفتازانی حنفیفرماتے ہیں:
’’ان الشارع امر باقامة الحدود وسد الثغور وتجھیزالجیوش للجھاد وکثیر من الامور المتعلقة بحفظ النظام وحمایة بیضة الاسلام مما لایتم الا بالامام وما لا یتم الواجب المطلق الا بہ وکان مقدورا فھو واجب‘‘۔[20]
’’شارع نے حدود(اللہ)کے قائم کرنے ،سرحدوں کے حفاظت ،جہاد کے لئے لشکر کو تیار کرنے اور بہت سے ایسے امور کا حکم دیا ہے جو نظام کی حفاظت اور مرکز اسلام کے تحفظ سے متعلق ہیں،جوکہ امام (خلیفہ)کے بغیر ادانہیں ہوسکتے اور جو مطلق فریضہ جس چیز کے بغیر پورا نہیں ہوسکتا تو وہ چیز از خود واجب ہوجاتی ہے‘‘۔
فرضیت خلافت صحابہ کرامکی نظر میں:
رسول اللہﷺکی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے صحابہ کرامسے مخاطب ہوکر جو خطبہ دیا تھا، اس میں فرمایا:
’’سنو !محمد ﷺوفات پاچکے ہیں اور اس دین کے لئے ایسا شخص (خلیفہ )ہونا ضروری ہے جو اسے قائم کرے‘‘۔
حضرت ابوبکر کا لفظ ’’لابدّ‘‘استعمال کرنا دراصل اس کی فرضیت کی طرف اشارہ کررہا ہے اور سامعین صحابہ میں سے کسی ایک نے اس اصول سے اختلاف نہیں کیا اور ان کا سکوت اجماع کے مترادف ہے اوراسی پر اہل سنت والجماعت کا متواتر اجماع چلا آرہا ہے ۔
امام احمد بن حجر الہیثمی فرماتے ہیں:
’’اعلم ایضاً ان الصحابة اجمعوا علی ان نصب الامام بعد انقراض زمن النبوة واجب بل جعلوھا اھم الواجبات حیث اشتغلوا بہ عن دفن رسول اللّٰہﷺ‘‘۔[22]
’’یعنی یہ بھی جان لیجئے کہ زمانہ نبوت کے ختم ہونے کے بعد صحابہ کرام کا امام کے تقرر کے واجب پر اجماع ہوچکا ہے بلکہ انہوں نے اسے بڑے فرائض میں سے قرار دیا ہے یہاں تک کہ اس کی ادائیگی میں مشغول ہوگئے اور رسول اللہﷺکی تدفین کو مؤخر کردیا‘‘۔
علامہ علا ؤالدین الحنفی فرماتے ہیں:
’’خلیفہ کا تقرر اہم ترین فرائض میں سے ہے اسی لئے صحابہ کرامنے اس کو رسول اللہ ﷺکی تدفین پر مقدم رکھا‘‘۔
سوچنے کا مقام ہے کہ کیا آج ہم اس فریضہ کو ادا کرنے کے بجائے حالات کی’’مجبوری‘‘ کابہا نہ بنا کراہم ترین فرض عین سے کنارہ کش رہیں گے………؟؟
خلیفہ کا تقرر اجماع سے ثابت ہے:
اسی لئے ملا علی قاری شرح الفقہ الاکبر میں فرماتے ہیں:
’’ آئمہ کرام کا اجماع ہے کہ امام کا تقرر واجب ہے ‘‘۔
علامہ تفتازانی حنفی فرماتے ہیں:
’’وقد ذکر فی کتبنا الفقھیة انہ لابد للامة من امام یحي الدین وقیم السنة وینتصف للمظلومین ویستوفی فی الحقوق ویضعھا مواضعھا‘‘۔[25]
’’ہماری فقہی کتابوں میں یہ بات مذکور ہے کہ امت کے لئے ایسے امام کا وجود لازم ہے جو دین کا احیاء کرے ،سنت (رسولﷺ)کو قائم کرے ،مظلوموں کو انصاف دلائے ،حقوق لے کر ان کے مستحقین کو دے‘‘۔
چنا چہ امام قرطبیسورۃ البقرۃ کی آیت ﴿انی جاعل فی الارض خلیفة﴾’’ضرور میں بناؤں گا زمین میں ایک نائب ‘‘کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
’’ھذہ الایة اصل فی نصب امام وخلیفة یسمع لہ ویطاع لتجتمع بہ الحکم وتنفذبہ احکام الخلیفة ولایخاف فی وجوب ذلک بین الامة ولا بین الأئمة‘‘۔[26]
’’یہ آیت امام و خلیفہ کے تقرر(کی فرضیت)کے بارے میں قاعدہ کلیہ(یعنی نص)کی حیثیت رکھتی ہے ۔(اس کا تقاضہ یہ ہے کہ )ایساامام ہو جس کی بات سنی جائے اور اس کی اطاعت کی جائے تاکہ کلمہ (اسلام کی شیرازہ بندی)اس سے مجتمع رہے اور خلیفہ کے احکام نافذ ہوں۔امت اور آئمہ و فقہاء میں خلیفہ کے تقرر کے واجب ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ‘‘۔
ایسا حکمران جوکہ دین کے احیاء کے بجائے اس کاکھلم کھلا اخفاء کرے ،سنت رسولﷺکے قیام کے بجائے اس کاسر عام استہزا و تمسخر کرے ،مظلوموں کو انصاف دلانے کے بجائے خود ان پر ظلم کرنے والاہو،حقوق دلانے کے بجائے خود غصب کرنے والا ہو تو کیا پھر بھی اس کی ولایت ’’تسلیم ‘‘کی جاتی رہے گی ………؟؟
{جیسا کہ ہمارے ہاں ایک سابق حاکم وقت نے یہ کہا تھا کہ’’آ ج خلافت کا نظام قابل عمل نہیں‘‘.اور ’’ داڑھی اور پردہ کو گھر پر رکھا جائے‘‘.اور ’’موسیقی کو حرام کہنے والوں سے ہمیں مقابلہ کرنا ہوگا‘‘………پھر بھی اس کی ولایت کو جب تک اس کے بیرورنی آقاؤں کی مرضی رہی، ’’تسلیم ‘‘کیا جاتا رہا اوراس کے احکامات ’’نافذ العمل‘‘سمجھے جاتے رہے اور آج بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں}
تین دن سے زیادہ خلیفہ کی عدم موجودگی جائز نہیں :
حضرت عمر فاروقنے اپنے اوپر قاتلانہ حملہ ہونے کے بعد جس میں آپ سخت مجروح ہوگئے تھے ،اپنے بعد خلیفہ منتخب کرنے کے لئے چھ افراد پر مشتمل شوریٰ بناتے ہوئے فرمایا:
’’جب میں فوت ہوجائوں تو تین دن تک مشورہ کرو اور چوتھا دن نہ آنے پائے کہ تمہارے اوپر ایک امیر ہو‘‘۔
امام ابن حزم فرماتے ہیں:
’’امام(خلیفہ ) کی وفات کے بعد نئے خلیفہ کے منتخب کرنے میں تین دن سے زیادہ تذبذب و تاخیر جائز نہیں‘‘۔
قاضی ابویعلی فرماتے ہیں:
’’اگر امامت کا قیام واجب نہ ہوتاتو (رسول اللہ ﷺکی تدفین سے پہلے )اس پر (سقیفہ بنی ساعدۃ میں)باہم گفتگو اور مناظرہ نہ ہوتا‘‘۔
امام عادل سے یہ امت عرصہ دراز ہو امحروم ہوہی ہوچکی تھی لیکن ’’خلافت‘‘کے نام سے جیسا بھی نظام دنیا میں موجود تھا،اس کوبھی زمین بوس ہوئے ایک صدی بیت چکی ہے،چنانچہ خلافت کے قیام کے لئے مزیدکتنے دن مسلمانوں پر مسلط طواغیت کی ’’توفیق ‘‘کاہم انتظار کرتے رہیں گے ………؟؟
[11] الطبرانی فی الکیر والاوسط،مجمع الزوائدج:5ص:197،وفیہ سعد ابو غیلان الشیبانی ولم اعرفہ وبقیة رجالہ ثقات.
Subscribe to:
Posts (Atom)
