Pages

Ads 468x60px

Thursday, June 14, 2012

کیا پوری دنیا کے یہودی اسلام اور مسلمانوں کے دشمن شمار ہوں گے؟


کیا پوری دنیا کے یہودی اسلام اور مسلمانوں کے دشمن شمار ہوں گے؟

ترجمہ: انصار اللہ اردو بلاگ
سوال نمبر ۵۰۴
تاریخ اشاعت: ۳۰۔١۰۔۲۰۰۹
موضوع : جہاد اور اسکے احکام
جواب منجانب: منبر التوحید والجہاد کی شرعی کمیٹی
O : بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔۔۔ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!
میں ایک شخص سے اُن یہودیوں کے بارے میں بحث کررہا تھا کہ جو مظاہروں کے ذریعے فلسطین کا ساتھ دیتے ہیں۔ میں نے اُس سے کہا کہ تمام یہودی اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ تو اُس نے کہا کہ نہیں، صرف صیہونی یہودی۔ جب اُس شخص کے خلاف میری دلیل قرآن کی یہ آیت کریمہ تھی:

لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ۔
                                                
تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے، اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تر اُن لوگوں کو پا ؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اِس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور اُن میں غرور نفس نہیں ہے۔ [1]

میرا سوال یہ ہے کہ کیا تمام یہودی دشمن تصور ہوں گے؟ یا پھر اُن میں سے صرف جنگجو، دشمن شمار کیئے جائیں گے؟

J: وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ والصلاة والسلام علی رسول اللہ ۔۔۔ وبعد۔

بلاشبہ حربی (جنگجو) کافر وہ ہوتا ہے کہ جس سے نہ تو کوئی معاہدہ کیا گیا ہو اور نہ اُسے پناہ دی گئی ہو اور نہ ہی وہ ذمّی ہو۔ یہ معاملہ بہت اہم ہے۔ جس کی وضاحت بہت ضروری ہے۔

کیونکہ بہت سے مسلمانوں کے نزدیک (حربی کافر) صرف وہ ہوتا ہے کہ جو فوجی وردی پہنے اور اسلحہ اٹھائے۔ اور جو کافر نہ تو فوجی وردی پہنتا ہے اور نہ اسلحہ اٹھاتا ہے، جسےعام شہری  (سول) بھی کہا جاتا ہے۔ وہ حربی نہیں خواہ وہ کچھ بھی کرے۔ حالانکہ یہ سوچ اور مفہوم باطل ہے۔ اور یہی سوچ اکثر لوگوں کے ذہنوں میں راسخ ہوچکی ہے جو کہ انسانی بناوٹی کفریہ قوانین کی حکومت اور شرعی اصطلاحات سے دوری کا نتیجہ ہے۔

اور اس زمانے کی عجیب بات یہ ہے کہ حکومتی علماء اور بھکاری فقھاء، اِس باطل سوچ کی بنیاد پر ہی شرعی احکام کو موجودہ حالات پر اتارتے ہیں۔ لہذا اُن کی اصطلاح میں شہری کو چھونا بھی حرام ہے۔ خواہ وہ اپنی رائے اور مال کے ذریعے اللہ تعالی کے دین کا سب سے بڑا دشمن ہی کیوں نہ ہو، جب تک اُس نے فوجی وردی پہنی ہو نہ اسلحہ اٹھایا ہو۔ اور اُن کے نزدیک تو حربی صرف وہ آدمی ہے کہ جو اسلحہ اٹھا کر ہمارے خلاف لڑتا ہے۔

اِس بنیاد پر صحیح اور درست فیصلہ یہ ہے کہ سرزمین فلسطین پر موجود تمام یہودی بغیر کسی استثناء کے (محارب) دشمن ہیں۔ اور اسی طرح فلسطین سے باہر وہ یہودی بھی دشمن ہیں کہ جو جو اِس ملک اسرائیل کی تائید کرتے ہیں یا اُس کی مالی یا معنوی مدد کرتے ہیں اور اِن یہودیوں کی غالب اکثریت یہی کرتی ہے۔

اور یہ فقہی قاعدہ تو معلوم ہے ہی کہ:

فیصلے میں اکثریت کو دیکھا جاتا ہے نہ کہ تمام کوبلکہ فلسطین سے باہر اِنکے بڑے تو اِس سرزمین فلسطین پر موجود یہودیوں سے کہیں زیادہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سخت ہیں۔ کیونکہ یہی لوگ عیسائیوں کو مسلمانوں کے خلاف جنگ پر ابھارتے ہیں اور اِن کے علاقوں پر قبضے کے لیئے بھیجتے ہیں۔ اسی لئے ان پر ہمارے رب کا یہ فرمان سچا ہے (کہ یہی لوگ ایمان والوں کے تمام لوگوں سے زیادہ سخت دشمن ہیں)۔

بلکہ ہمارے رب نے مذکورہ آیت میں اِن کو مشرکوں سے بھی پہلے رکھا ہے۔ جو ان کی مومنوں سے بدترین دشمنی پر دلیل ہے۔ اسی بنیاد پر اس آیت سے یہودیوں کی مسلمانوں کے ساتھ دشمنی پر استدلال صحیح اور درست ہے اور اس میں کوئی غلطی نہیں۔

اور صیہونی یہودی، دیندار یہودی، سیکولر یہودی اور کمیونسٹ یہودی ۔۔۔۔ وغیرہ میں کوئی فرق نہیں۔ کیونکہ یہ تمام جس طرح کفر میں ایک جیسے ہیں، اسی طرح مسلمانوں کی دشمنی میں بھی برابر ہیں۔

جبکہ بعض جاہل اور سیکولر لوگ تمام یہودیوں سے دشمنی پر پانی پھیرنے اور اُن کے ساتھ دینی معرکے کی حقیقت کو چھپانے کے لئے اِن اصطلاحوں میں فرق کرتے ہیں۔

حالانکہ مذکورہ آیت میں لفظ الیہود اسم جنس ہے جو کہ عمومیت کا صیغہ ہے اور تمام یہودیوں کے لئے عام ہے۔ اور اِسے مخصوص کرنے والی کوئی دلیل نہیں۔ اس لئے یہ لفظ اپنی عمومیت پر ہی باقی رہے گا۔ جب اللہ تعالی نے کسی یہودی کو اس طرح مستثنیٰ نہیں کیا کہ جیسے عیسی علیہ السلام کے بعض پیروکاروں کو اِسی آیت میں اپنے اس فرمان کے ساتھ مستثنیٰ کیا ہے:



وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ[2] ….

اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تر اُن لوگوں کو پا ؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں۔۔۔۔۔۔

اور جو کوئی یہ دعوی کرتا ہے کہ یہ آیت صرف صیہونیوں کے لئے خاص ہے، تو وہ غلطی پر ہے کہ جو اللہ تعالی کے کلام کو بغیر کسی دلیل کے خواہشات کے تحت مخصوص کرتا ہے۔

اور تمام یہودیوں کی مسلمانوں سے دشمنی کی یہ بھی ایک دلیل ہے کہ وہ ابھی تک فلسطین کے بہت سے علاقوں پر قبضے کی تائید کرتے ہیں اور اُنکا یہ ایمان ہے کہ فلسطین اُن کی وہ سرزمین ہے کہ جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے۔ اور وہ اپنی اِس یہودی مملکت کی تقویت کے لئے اپنے اموال میں سے ایک حصہ نکالتے ہیں۔ اور اُنکی یہ مملکت اُن پر اِس سلسلے میں ٹیکس اور محصول وغیرہ عائد کرتی ہے، یہ اسکو پابندی سے ادا کرتے ہیں۔ جو کہ سب انکی فوجی امداد اور اسلامی سرزمین پر اُن کی حکومت کی مضبوطی کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔

اور وہ خاص علاقوں میں رہائش اختیار کرتے ہیں نہ تو مسلمانوں کے ساتھ رہتے ہیں اور نہ کسی بھی مسلمان کو اپنے علاقے میں رہنے کی اجازت دیتے ہیں۔

تو یہ انکا دین اورطریقہ کار ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر آج تک اور پھر قیامت تک ہے۔ بلکہ پرانے زمانے کی کہاوت ہے:

یہودیوں کا مذہب ہے کہ اُن پر واجب ہے کہ اُنکے دین کے مخالفوں تک فساد پہنچائیں خواہ کسی بھی طریقے سے ہو۔

اس کے بعد جو یہ گمان کرتا ہے کہ کوئی ایسا بھی یہودی ہے کہ جو مسلمانوں سے دشمنی نہیں رکھتا، تو ایسا شخص بہت ہی سیدھا سادا جاہل اوردھوکے میں ہے۔

جو کچھ آج طاغوتی میڈیا کررہا ہے کہ مختلف پروگراموں میں ایسے لوگوں کو مہمان کے طور پر دعوت دیتے ہیں کہ جو یہ جھوٹا دعوی کرتے ہیں کہ وہ صیہونیت کے دشمن ہیں۔ جنکا مقصد یہ تصویر پیش کرنے کی کوشش ہوتی ہے کہ یہودیوں میں سے کچھ ہمارے صلح پسند ہیں اور ان میں سے صرف صیہونی ہی مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ یہ سب دھوکا دہی، جھوٹ، حقائق کو چھپانے اور تبدیل کرنےکے علاوہ کچھ نہیں کہ جس کے ذریعے وہ سادہ لوح اور جاہل مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں تاکہ اس سے مسلمانوں کے الولاء والبراء (دوستی ودشمنی)[3] کے عقیدے کو چھوڑ دے اور یہودیوں کی ہمارے ساتھ ازلی دینی دشمنی اور معرکوں کو ختم کردے ۔ اور یہ یہود کے ساتھ صلح پسندی انسانوں جنوں اور شیطانوں کی ایک چال کے علاوہ کچھ نہیں۔

یہ سب اللہ تعالی کی توفیق سے ہے۔

جواب منجانب: الشیخ ابو الولید المقدسی
عضو شرعی کمیٹی
منبرالتوحید والجہاد



[1]    سورة المائدہ ۔ ۸۲
[2]    سورة المائدہ ۔ ۸۲
[3]   مزید تفصیلات کے لیے مطالعہ کریں "معیارِ حق" الموحدین ویب سائیٹ

0 comments:

Post a Comment