Friday, June 22, 2012
خلافت و سیاست کا شرعی مفہوم
خلافت و سیاست کا شرعی مفہوم
رسول اللہﷺکی نظر میں خلیفہ کون؟
خلافت و سیاست کا شرعی مفہوم یا باالفاظ دیگرامام عادل اور خلیفہ سے کیا مراد ہے،اس کی وضاحت شرعی طور پر یہ ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
’’جو شخص امر بالمعروف اور نہی عن المنک کرتاہے وہ (ہی )زمین میں اللہ کا ،اس کے رسول کا اور اس کی کتاب کا خلیفہ ہے‘‘۔
کیا ایسا شخص جو کہ نیکی کا حکم دینے کے بجائے اس کے راستے مسدود کررہاہو اور برائی سے روکنے کے بجائے اس کا نفاذ بزور طاقت کررہا ہوتو کیا اس کے باوجود وہ واجب الاطاعت رہے گا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺاور اس کی کتاب کا خلیفہ قرار پائے گا؟
صحابہ کرامکی نظر میں خلیفہ کو ن ؟
حضرت علیفرماتے ہیں :
’’قال علی الامام انما جعل لیقیم الناس الصلوة ویاخذ صدقاتھم ویقیم حدودھم یمضی احکامھم ویجاھد عدوھم وھذہ کلھا عقودولایخاطب بھا من لم یبلغ او من لا یعقل‘‘[2]
’’حضرت علی فرماتے ہیں کہ امام (خلیفہ )اس لیے بنایا جاتا ہے تاکہ نظام صلوۃ کو قائم کرے ،صدقات وصول کرے ،حدود (اللہ)قائم کرے ،احکام (شریعہ)کا نفاذ کرے اور دشمنوں سے جہا د کرے۔یہ تمام امور عقود (معاملات )ہیں اور ان کا مخاطب نابالغ اور غیر عاقل نہیں ہے‘‘۔
حضرت عمرسے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت طلحہ ،حضرت زبیر،حضرت کعب اور حضرت سلمانسے سوال کیا کہ خلیفہ اور بادشاہ میں کیا فرق ہے ؟حضرت طلحہ و زبیر نے فرمایا ہم نہیں جانتے،پھر حضرت سلمان نے فرمایا:
’’خلیفہ وہ ہے جو رعیت میں عدل کرے اور ان کے درمیان مال برابر کی تقسیم کرے اور لوگوں پر ایسی شفقت کرے جیسی کوئی اپنے گھر والوں پر کرتا ہے اور اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرے‘‘۔[3]
جو حکمران نظام صلواۃ کے قائم کرنے کے بجائے اس کو ڈھادے ،صدقات کے بجائے ٹیکس وصول کرنے پر مصر رہے،حدود اللہ کوقائم کرنے کے بجائے ان کے قیام کے لئے آواز اٹھانے والوپر آتش و آہن کی برسات کردے ،احکام شرعیہ کے نفاذ کے بجائے بزور شمشیر کفریہ قوانین کا اجراء کرے ،دین کے دشمنوں سے لڑنے کے بجائے ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف صف آراء ہوجائے تو کیااس کے باوجود اس کی ولایت کو ’’تسلیم ‘‘کیا جاتا رہے گا………؟ ؟
خلیفہ فقہاء کی نظر میں:
علامہ آلوسی سورۃ البقرۃ کی آیت ﴿اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الاَرْضِ خَلِیْفَةً﴾’’ضرور میں بناؤں گا زمین میں ایک نائب‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
’’ومعنی کونہ (خلیفة )انہ خلیفہ اﷲ تعالیٰ فی ارضہ وکذا کل نبی استخلفھم فی عمارة الارض وسیاسة الناس وتکمیل نفوسھم وتنفیذ امرہ فیھم لالحاجة بہ تعالیٰ ‘‘[4]
’’خلیفہ کے معنی یہ ہے کہ وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کاخلیفہ و نائب ہوتا ہے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو زمین کی آبادی ، انسانوں کی سیاست (نظم و نسق)کرنے ، ان کے نفوس کی تکمیل کرنے اور ان کے اندر اللہ کے حکم کو نافذ کرنے کے لئے اپنا نائب بنایا ہے ،نہ کہ اللہ تعالیٰ اس کا محتاج ہے‘‘۔
امام بغویاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
’’صحیح قول یہ ہے کہ آدم (انسان)اللہ کا خلیفہ ہے زمین میں اس کے احکام قائم کرنے اور اس کے فیصلوں کو نافذ کرنے کے لئے‘‘۔
امام الحرمین خلیفہ کے فرائض بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’کلی بات یہ ہے کہ غرض طوعاً وکرھاً قواعد اسلام کی بقاء ہے اور مقصد دین کا قیام ہے‘‘۔
جس امارت کا مقصد دین اللہ کے قیام کے بجائے اپنے یا اغیار کے وضع کردہ قوانین کا اجراء ہوجائے تو کیاپھربھی اس کے جاری کردہ احکاما ت کو ’’نافذالعمل‘‘ہی قرار دیا جاتا رہے گا………؟؟
خلافت دراصل رسول اللہﷺکی نیابت اور جانشینی کا نام ہے:
امام الماوردی فرماتے ہیں :
’’امامت(یاخلافت)دین کی حفاظت کرنے اور اس کے ذریعے دنیاوی امور کی تدبیر اور نظم و نسق کرنے میں نبوت کی نیابت ہے‘‘۔
علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں:
’’درحقیقت خلافت دین کی حفاظت کرنے اور اس کے ذریعے دنیوی امور کی تدبیر اور نظم و نسق کرنے میں صاحب شریعت(رسول اللہ ﷺ)کی نیابت اور جانشینی کا نام ہے‘‘۔
امام ابن حزمفرماتے ہیں :
’’ان الامة واجب علیھا الانقیاد لامام عادل یقیم فیھم احکام اللہ ویسوسھم باحکام الشریعة التی اتیٰ بھا رسول اللّٰہ‘‘۔[9]
’’یعنی امت پر عادل خلیفہ کی فرمانبرداری لازم ہے جو ان میں احکام الٰہی کو قائم کرتاہے اور احکام شریعت جو رسول اللہ لائے ہیں ،ان کے نفاذ کا انتظام کرتاہے‘‘۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں:
’’الخلافة ھی الریاسة العامة فی التصدی لاقامة الدین باحیاء العلوم الدینیة واقامةارکان الاسلام والقیام بالجھاد وما یتعلق بہ من ترتیب الحیوش والفرض للمقاتلہ واعطاھم من الفیٔ والقیام بالقضاء واقامة الحدود ورفع المظالم والامر بالمعروف والنھی عن المنکر نیابة عن النبی ﷺ‘‘۔ [10]
’’خلافت عامہ وہ ریاست عامہ ہے جو رسول اللہ ﷺکی نیابت و جانشینی کرتے ہوئے عملاً اقامت دین کے لئے حاصل ہوئی ہو یعنی علوم دینیہ کا احیاء، ارکان اسلام کی اقامت ،جہاد اور متعلقات جہاد کا قیام جیسے افواج کی ترتیب، مجاہدین کے وظائف دینا،مال غنیمت کی تقسیم ،نظام عدالت کاقیام، حدود(شریعہ)کا اجراء، مظالم کو دور کرنا اور امر بالمعروف ونہی عن المنکرکرنا شامل ہیں‘‘۔
فقہاء کرام کے ان اقوال کی روشنی میں کیا اسلام اس بات کی اجازت دے سکتا ہے کہ نیابت رسول ﷺاور آپ ﷺکی جانشینی ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں رہے جوکہ ظلم و فسق کی حدوں توڑتے ہوئے کئی کئی دروازوں سے کفر و ارتداد میں داخل ہورہا ہولیکن پھر بھی اس کی نیابت اور جانشینی کو’’ تسلیم‘‘ کرنے اور ا س کے احکامات ’’نافذالعمل‘‘قرار دینے کے درس دیئے جاتے رہیں گے………؟؟
زمین کی خوشحالی خلافت سے وابستہ ہے:
جب حکومت اس شرعی معنی و مفہوم کے ساتھ قائم ہوتووہ’’خلافت‘‘کہلاتی ہے اور حاکم ان اوصاف حمیدہ کے ساتھ حکومت کررہا ہوں تووہ خلیفہ اور امام عادل قرار پاتا ہے اور ایسے وقت کے بارے میں رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا:
((وعن ابن عباس رضی اﷲ عنھما قال قال رسول اللّٰہﷺیوم من امام عادل افضل من عبادة ستین سنة وحد یقام فی الارض بحقہ ازکی فیھا من مطر اربعین عاما))[11]
’’حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:امام عادل کا ایک دن افضل ہے ستر سال کی عبادت سے اور زمین پر ایک حد کا قیام چالیس سالوں کی بارش سے زیادہ خوشحالی کا باعث ہے‘‘۔
آج جبکہ امام عادل کے بجائے آئمۃ الکفر کا تسلط ہے اور زمین پر اللہ کی حدود کے بجائے غیرا للہ کے قوانین جاری و ساری ہیں جو کہ زمین پرفتنہ و فساد،قتل و غارت اور تباہی و بربادی کا موجب ہیں، اس کے باوجود ہم ان قوانین کو ’’تسلیم ‘‘کئے رہیں گے………؟؟
خلیفہ کے بغیر موت جاہلیت کی موت ہے:
رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:
’’جو شخص اس حال میں مر ا کہ اس کی گردن میں (کسی خلیفہ کی )بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا‘‘۔
’’جو شخص اس حال میں مرا کہ اس پر اس پر کوئی امام (خلیفہ )نہیں تو وہ جاہلیت کی موت مرا‘‘۔
ان احادیث مبارکہ سے یہ بات کلیۃ واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺنے خلیفہ کی بیعت کو فرض قرار دے دیا ہے اور خلیفہ کی بیعت اس کے تقرر کے بغیر نہیں ہوسکتی لہٰذا خلیفہ کا تقررمسلمانوں پر فرض ہے۔چناچہ امام نوویاس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
’’یعنی وہ کفار کی موت کی صفت پر مرا۔اس حیثیت سے کہ وہ بغیر کسی امام کے ہیں اور ان کا کوئی امام نہیں‘‘۔
ان احادیث مبارکہ کی روشنی یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنے پڑتی ہے کہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت چاہے وہ اپنی ذات میں کتنی ہی نیک اور صالح کیوں نہ ہو ،اجتماعی لحاظ سے کم از کم جاہلیت کی صفت پر اس دنیا سے رخصت ہورہی ہے تو کیا پھر بھی ہم ’’مجبوری ‘‘کا بہانہ بنا کر ان حالات میں سر’’تسلیم‘‘خم کئے جاہلیت کی موت مرتے رہیں گے………؟؟
سفر بغیر امیر کے جائز نہیں:
رسول اللہﷺنے حالت سفر میں بھی جبکہ تعداد کتنی قلیل ہی کیوں نہ ہو،امیر کے تقرر کو لازمی قرار دیا ہے:
’’جب تین آدمی سفر کے لئے نکلیں تو انہیں چاہیے کہ اپنے میں سے ایک کو امیر بنالیں‘‘۔
’’نہیں ہے حلال تین آدمیوں کے لئے جو کسی خطۂ زمین میں (سفرمیں)ہوں مگر یہ کہ وہ اپنے اوپر ایک امیر مقرر کرلیں‘‘۔
لہٰذا مسلمانوں کے لئے ایک امیر کا تقرر بطریق اولیٰ فرض قرار پایا۔امام ابن تیمیہ مندرجہ بالا احادیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:
’’فقد اوجب صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ وعلی آلہ تأمر الواحد فی الاجتماع القلیل العارض فی السفرمنبھاًبذلک علیٰ سائر انواع الاجتماع……………فاذا وجب فی اقل الجماعات واقصر الاجتماعات ان یولی احدھم کان ھذا تنبیھاًعلی وجوب ذالک فیما ھواکثر من ذلک‘‘۔[17]
’’رسول اللہ ﷺنے قلیل اجتماعیت جو سفر میں پیش آجائے،اس میں امیر بنانے کو واجب قرار دیتے ہوئے اجتماعیت کی تمام اقسام پر تنبیہ فرمائی ہے۔جب چھوٹی سی جماعت اور انتہائی کم اجتماع میں کسی ایک کو امیر بنانا واجب ہے تو یہ اس سے بڑی اجتماعیت میں ،اس کے وجوب پر تنبیہ ہے ‘‘۔
غور کرنے کا مقام ہے کہ جب تین آدمیوں کے سفر میں نکلنے کی صورت میں امیر مقرر کئے بغیر نکلنا حلال اور جائز نہیں تو پوری امت کے اجتماعی معاملات کو سنبھالنے کے لئے ایک امیر(خلیفہ)کا نہ ہونا با امر ’’مجبوری‘‘ کب تک قبول کیا جاتا رہے گا………؟؟
واجب کا مقدمہ بھی واجب ہوتاہے:
علماء اصولیین کے ہاں شرعی قاعدہ کلیہ ہے جس کو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ان الفاظ میں نقل کیا کہ:
’’واجب کا مقدمہ بھی واجب ہوتا ہے‘‘۔
اور جس کو امام ابن تیمیہ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا:
کیونکہ اصول یہ ہے کہ(مَالَا یَتِمُّ الْوَاجَبُ اِلَّا بِہٖ فَھُوَ وَاجِبْ)’’جس معاون چیز کے ساتھ کسی واجب کی ادائیگی ہوتی ہے وہ کام بھی واجب ہے‘‘۔[19]
چنانچہ علامہ تفتازانی حنفیفرماتے ہیں:
’’ان الشارع امر باقامة الحدود وسد الثغور وتجھیزالجیوش للجھاد وکثیر من الامور المتعلقة بحفظ النظام وحمایة بیضة الاسلام مما لایتم الا بالامام وما لا یتم الواجب المطلق الا بہ وکان مقدورا فھو واجب‘‘۔[20]
’’شارع نے حدود(اللہ)کے قائم کرنے ،سرحدوں کے حفاظت ،جہاد کے لئے لشکر کو تیار کرنے اور بہت سے ایسے امور کا حکم دیا ہے جو نظام کی حفاظت اور مرکز اسلام کے تحفظ سے متعلق ہیں،جوکہ امام (خلیفہ)کے بغیر ادانہیں ہوسکتے اور جو مطلق فریضہ جس چیز کے بغیر پورا نہیں ہوسکتا تو وہ چیز از خود واجب ہوجاتی ہے‘‘۔
فرضیت خلافت صحابہ کرامکی نظر میں:
رسول اللہﷺکی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے صحابہ کرامسے مخاطب ہوکر جو خطبہ دیا تھا، اس میں فرمایا:
’’سنو !محمد ﷺوفات پاچکے ہیں اور اس دین کے لئے ایسا شخص (خلیفہ )ہونا ضروری ہے جو اسے قائم کرے‘‘۔
حضرت ابوبکر کا لفظ ’’لابدّ‘‘استعمال کرنا دراصل اس کی فرضیت کی طرف اشارہ کررہا ہے اور سامعین صحابہ میں سے کسی ایک نے اس اصول سے اختلاف نہیں کیا اور ان کا سکوت اجماع کے مترادف ہے اوراسی پر اہل سنت والجماعت کا متواتر اجماع چلا آرہا ہے ۔
امام احمد بن حجر الہیثمی فرماتے ہیں:
’’اعلم ایضاً ان الصحابة اجمعوا علی ان نصب الامام بعد انقراض زمن النبوة واجب بل جعلوھا اھم الواجبات حیث اشتغلوا بہ عن دفن رسول اللّٰہﷺ‘‘۔[22]
’’یعنی یہ بھی جان لیجئے کہ زمانہ نبوت کے ختم ہونے کے بعد صحابہ کرام کا امام کے تقرر کے واجب پر اجماع ہوچکا ہے بلکہ انہوں نے اسے بڑے فرائض میں سے قرار دیا ہے یہاں تک کہ اس کی ادائیگی میں مشغول ہوگئے اور رسول اللہﷺکی تدفین کو مؤخر کردیا‘‘۔
علامہ علا ؤالدین الحنفی فرماتے ہیں:
’’خلیفہ کا تقرر اہم ترین فرائض میں سے ہے اسی لئے صحابہ کرامنے اس کو رسول اللہ ﷺکی تدفین پر مقدم رکھا‘‘۔
سوچنے کا مقام ہے کہ کیا آج ہم اس فریضہ کو ادا کرنے کے بجائے حالات کی’’مجبوری‘‘ کابہا نہ بنا کراہم ترین فرض عین سے کنارہ کش رہیں گے………؟؟
خلیفہ کا تقرر اجماع سے ثابت ہے:
اسی لئے ملا علی قاری شرح الفقہ الاکبر میں فرماتے ہیں:
’’ آئمہ کرام کا اجماع ہے کہ امام کا تقرر واجب ہے ‘‘۔
علامہ تفتازانی حنفی فرماتے ہیں:
’’وقد ذکر فی کتبنا الفقھیة انہ لابد للامة من امام یحي الدین وقیم السنة وینتصف للمظلومین ویستوفی فی الحقوق ویضعھا مواضعھا‘‘۔[25]
’’ہماری فقہی کتابوں میں یہ بات مذکور ہے کہ امت کے لئے ایسے امام کا وجود لازم ہے جو دین کا احیاء کرے ،سنت (رسولﷺ)کو قائم کرے ،مظلوموں کو انصاف دلائے ،حقوق لے کر ان کے مستحقین کو دے‘‘۔
چنا چہ امام قرطبیسورۃ البقرۃ کی آیت ﴿انی جاعل فی الارض خلیفة﴾’’ضرور میں بناؤں گا زمین میں ایک نائب ‘‘کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
’’ھذہ الایة اصل فی نصب امام وخلیفة یسمع لہ ویطاع لتجتمع بہ الحکم وتنفذبہ احکام الخلیفة ولایخاف فی وجوب ذلک بین الامة ولا بین الأئمة‘‘۔[26]
’’یہ آیت امام و خلیفہ کے تقرر(کی فرضیت)کے بارے میں قاعدہ کلیہ(یعنی نص)کی حیثیت رکھتی ہے ۔(اس کا تقاضہ یہ ہے کہ )ایساامام ہو جس کی بات سنی جائے اور اس کی اطاعت کی جائے تاکہ کلمہ (اسلام کی شیرازہ بندی)اس سے مجتمع رہے اور خلیفہ کے احکام نافذ ہوں۔امت اور آئمہ و فقہاء میں خلیفہ کے تقرر کے واجب ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ‘‘۔
ایسا حکمران جوکہ دین کے احیاء کے بجائے اس کاکھلم کھلا اخفاء کرے ،سنت رسولﷺکے قیام کے بجائے اس کاسر عام استہزا و تمسخر کرے ،مظلوموں کو انصاف دلانے کے بجائے خود ان پر ظلم کرنے والاہو،حقوق دلانے کے بجائے خود غصب کرنے والا ہو تو کیا پھر بھی اس کی ولایت ’’تسلیم ‘‘کی جاتی رہے گی ………؟؟
{جیسا کہ ہمارے ہاں ایک سابق حاکم وقت نے یہ کہا تھا کہ’’آ ج خلافت کا نظام قابل عمل نہیں‘‘.اور ’’ داڑھی اور پردہ کو گھر پر رکھا جائے‘‘.اور ’’موسیقی کو حرام کہنے والوں سے ہمیں مقابلہ کرنا ہوگا‘‘………پھر بھی اس کی ولایت کو جب تک اس کے بیرورنی آقاؤں کی مرضی رہی، ’’تسلیم ‘‘کیا جاتا رہا اوراس کے احکامات ’’نافذ العمل‘‘سمجھے جاتے رہے اور آج بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں}
تین دن سے زیادہ خلیفہ کی عدم موجودگی جائز نہیں :
حضرت عمر فاروقنے اپنے اوپر قاتلانہ حملہ ہونے کے بعد جس میں آپ سخت مجروح ہوگئے تھے ،اپنے بعد خلیفہ منتخب کرنے کے لئے چھ افراد پر مشتمل شوریٰ بناتے ہوئے فرمایا:
’’جب میں فوت ہوجائوں تو تین دن تک مشورہ کرو اور چوتھا دن نہ آنے پائے کہ تمہارے اوپر ایک امیر ہو‘‘۔
امام ابن حزم فرماتے ہیں:
’’امام(خلیفہ ) کی وفات کے بعد نئے خلیفہ کے منتخب کرنے میں تین دن سے زیادہ تذبذب و تاخیر جائز نہیں‘‘۔
قاضی ابویعلی فرماتے ہیں:
’’اگر امامت کا قیام واجب نہ ہوتاتو (رسول اللہ ﷺکی تدفین سے پہلے )اس پر (سقیفہ بنی ساعدۃ میں)باہم گفتگو اور مناظرہ نہ ہوتا‘‘۔
امام عادل سے یہ امت عرصہ دراز ہو امحروم ہوہی ہوچکی تھی لیکن ’’خلافت‘‘کے نام سے جیسا بھی نظام دنیا میں موجود تھا،اس کوبھی زمین بوس ہوئے ایک صدی بیت چکی ہے،چنانچہ خلافت کے قیام کے لئے مزیدکتنے دن مسلمانوں پر مسلط طواغیت کی ’’توفیق ‘‘کاہم انتظار کرتے رہیں گے ………؟؟
[11] الطبرانی فی الکیر والاوسط،مجمع الزوائدج:5ص:197،وفیہ سعد ابو غیلان الشیبانی ولم اعرفہ وبقیة رجالہ ثقات.
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
اللہ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین۔ کیا ہی عمدہ مضمون شئیر کیا ہے۔
ReplyDeleteوالسلام
حنا خان
بہت اچھا مضمون ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ اگر آپ سورہ بقرہ کی آیت 124 پر بھی تفصیلی روشنی ڈایل دیں تو عنایت ہو گی کہ حجرت ابراہیم علیہ السلام کو کن معنوں میں امام بنانے کا ذکر کیا گیا ہے؟
ReplyDelete